بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 060
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 29 اکتوبر 2026 — ہجری: 17 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

سورۃ النور کی آیت نمبر 6 میں مردوں و عورتوں کا ذکر ہے — اس حوالے سے بتائیں؛ اور کیا اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے مرد ہیں ان کے لیے ویسی عورتیں اور جیسی عورتیں ہیں ان کے لیے ویسے مرد؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ آیت 6 کا اصل موضوع — لعان: اس آیت میں "جیسے مرد ویسی عورتیں" نہیں؛ یہ لعان کا حکم ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ (النور: 6)۔

1۔ آیت 6 کا اصل موضوع — لعان: اس آیت میں "جیسے مرد ویسی عورتیں" نہیں؛ یہ لعان کا حکم ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ (النور: 6)۔ پس منظر: آیت 4 میں عام پاک دامن عورتوں پر تہمت کی سزا (80 کوڑے) بشرطِ عدمِ گواہ؛ آیت 6 کا استثناء: شوہر بیوی کو بدکاری کرتے دیکھے اور گواہ نہ ہوں تو عدالت میں چار قسمیں + پانچویں بار لعنت؛ عورت چار قسمیں + پانچویں بار غضب طلب کر کے سزا سے بچے — اسے لعان کہتے ہیں، بعد میں ہمیشہ کی جدائی۔

2۔ مفہوم کس آیت میں ہے: آیت 26 میں: ﴿الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾ (النور: 26)۔

3۔ تفسیر (ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ابن کثیر رحمہم اللہ): (الف) راجح قول — اقوال کی مناسبت: خبیثات/طیبات سے مراد باتیں و کلمات: ناپاک الزامات ناپاک لوگوں کے لائق، پاکیزہ کلمات پاکیزہ لوگوں کے شایان — منافقین کا عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام ان کی اپنی ناپاکی کا عکس؛ رسول ﷺ و ام المؤمنین تمام الزامات سے بری۔ (ب) اشخاص کی مناسبت: فطری میلان — گندے اخلاق والوں کا جوڑ ویسوں سے، پاکبازوں کی مناسبت نیک لوگوں سے؛ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت: سب سے پاکیزہ انسان ﷺ کے نکاح کے لیے چنی گئی ہستی بھی قطعاً طیبہ ہی ہو سکتی ہے۔

4۔ کیا ہر اچھے کو ہمیشہ اچھی بیوی ملے گی؟ اشکال: نوح و لوط علیہما السلام کی بیویاں کافر؛ فرعون کی بیوی آسیہ نیک۔ جواب: آیت عمومی اخلاقی قاعدہ/تقاضا ہے، جبری تکوینی قانون نہیں — استثناء ممکن (آزمائش)؛ اور عفت کا دائرہ: انبیاء کی بیویاں عقیدے میں گمراہ ہو سکتی تھیں مگر کوئی نبی کی بیوی کبھی بدکردار/بے حیا نہیں ہوئی۔

خلاصہ: آیت 6 لعان کی ہے؛ مناسبت والا مفہوم آیت 26 میں ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔