آج کل لیبارٹری میں جانور کے خلیات (cells) کو خاص ماحول میں بڑھا کر گوشت تیار کیا جا رہا ہے، جسے "کلچرڈ میٹ" یا "لیب میں تیار شدہ گوشت" کہا جاتا ہے، اور اس میں جانور ذبح نہیں ہوتا۔ اس گوشت کا کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
شریعت میں گوشت کی حلّت دو چیزوں سے وابستہ ہے: جانور فی نفسہ حلال ہو، اور اس کا گوشت ذبحِ شرعی کے بعد حاصل ہوا ہو۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ مسئلے کی بنیادی اصل:
شریعت میں گوشت کی حلّت دو چیزوں سے وابستہ ہے: جانور فی نفسہ حلال ہو، اور اس کا گوشت ذبحِ شرعی کے بعد حاصل ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ... إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ (سورۃ المائدہ: ۳) یعنی مردار، خون اور خنزیر کا گوشت حرام ہے، سوائے اس کے جسے تم ذبح کر لو۔ لیب میں تیار شدہ گوشت میں کوئی جانور ذبح نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے حکم کا انحصار تین باتوں پر ہے: خلیات کس جانور سے لیے گئے؟ کس حالت میں لیے گئے؟ اور ان کی پرورش کس واسطے (میڈیم) میں ہوئی؟
۲۔ پہلی صورت — خلیات زندہ جانور سے لیے گئے ہوں:
یہ صورت حرام ہے۔ حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو حصہ جانور سے اس کے زندہ ہوتے ہوئے کاٹا جائے، وہ مردار ہے" (جامع ترمذی: ۱۴۸۰، حدیث حسن؛ سنن ابی داؤد: ۲۸۵۸)۔ شریعت نے زندہ جانور سے جدا شدہ جز کو مردار کے حکم میں رکھا ہے، اور مردار بنصِّ قرآن حرام ہے۔ خلیات انہی اجزاء سے نشوونما پاتے ہیں، اس لیے معاصر اہلِ علم کی اکثریت کی راجح رائے یہی ہے کہ خلیات کا ماخذ ذبحِ شرعی کے بعد کا ہونا ضروری ہے؛ زندہ جانور کی بایوپسی سے لیے گئے خلیات سے تیار شدہ گوشت حلال نہیں۔
۳۔ دوسری صورت — خلیات حرام جانور یا مردار سے ہوں:
اگر خلیات خنزیر یا کسی اور حرام جانور سے لیے گئے ہوں، یا مردار اور غیر مذبوح جانور سے، تو نتیجہ خیز گوشت قطعی حرام ہے۔ یہ دعویٰ کہ لیب کی پرورش کے دوران اس کی حقیقت تبدیل ہو گئی (استحالہ)، جمہور اہلِ علم کے نزدیک ان اشیاء میں معتبر نہیں جو نجس العین ہوں۔
۴۔ تیسری صورت — حلّت کی گنجائش والی صورت:
اگر خلیات ایسے حلال جانور (گائے، مرغی وغیرہ) سے لیے جائیں جو پہلے شرعی طریقے سے ذبح ہو چکا ہو؛ پرورش کا واسطہ خون اور نجس اجزاء سے مکمل پاک ہو — یاد رہے کہ عام طور پر استعمال ہونے والا "فیٹل بووائن سیرم" بچھڑے کے خون سے ماخوذ ہوتا ہے، لہٰذا اس کے استعمال سے یہ شرط پوری نہیں ہوتی — اور پیداوار معتبر نگرانی اور مکمل شفافیت کے تحت ہو تاکہ صارف کو پتا ہو کہ یہ کیا چیز ہے، تو اس مخصوص صورت میں حلّت کی گنجائش نکلتی ہے۔ انہی خطوط پر اسلامی فقہ اکیڈمی (او آئی سی) نے اپنے چھبیسویں اجلاس (دوحہ، ۲۰۲۵ء) میں مشروط گنجائش کا فیصلہ دیا ہے، اور سنگاپور کی اسلامی مذہبی کونسل (MUIS) کا فتویٰ (۲۰۲۴ء) بھی اسی نَوع کا ہے۔ یہ موضوع ہمارے اپنے تحقیقی مطالعے (المَرجان، ۲۰۲۵ء) کا بھی محور رہا ہے، جس کا خلاصہ یہی مشروط تجزیہ ہے۔
۵۔ عملی ہدایت:
فی الحال بازار میں دستیاب مصنوعات میں مذکورہ شرائط کی تکمیل عموماً غیر یقینی ہے؛ جب تک کسی معتبر حلال سرٹیفکیشن سے شرائط کی تکمیل ثابت نہ ہو، اجتناب ہی درست طرز ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "جس چیز میں تمہیں شبہ ہو اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جس میں شبہ نہ ہو" (جامع ترمذی: ۲۵۱۸، صحیح)۔ البتہ علاج کی شدید ضرورت ہو اور حلال متبادل موجود نہ ہو تو ضرورت کے اصول الگ ہیں؛ ایسی صورت میں اہلِ علم سے رجوع کیا جائے۔
مقاصدی تنبیہ:
حفظِ نفس اور حفظِ مال کے مقاصد غذاء کی طہارت اور صارف کے اعتماد کی حفاظت کو بھی شامل ہیں؛ کوئی ٹیکنالوجی خواہ ماحول اور جانوروں کی بہبود میں کتنی ہی مفید کیوں نہ ہو، اس کی پیداوار کے لیے مردار اور حرام ماخذ کا سہارا شرعاً جائز قرار نہیں پا سکتا۔ ذریعے کی طہارت مقصد کی اچھائی سے مقدم ہے۔