کیا زندگی میں اپنا گردہ وغیرہ کسی مریض کو عطیہ کرنا جائز ہے؟ اور کیا وفات کے بعد اعضاء کے عطیے کی وصیت کی جا سکتی ہے؟ اعضاء کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت بخشی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ (سورۃ الاسراء: ۷۰)۔ انسانی جسم انسان کی ملکیتِ مطلقہ نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے، اسی لیے اسے خود بھی نقصان پہنچانا جائز نہیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ بنیادی اصول: جسم امانت ہے اور انسان محترم:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت بخشی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ (سورۃ الاسراء: ۷۰)۔ انسانی جسم انسان کی ملکیتِ مطلقہ نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے، اسی لیے اسے خود بھی نقصان پہنچانا جائز نہیں۔ یہ حرمت موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے؛ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا“ (سنن ابی داؤد: ۳۲۰۷؛ سنن ابن ماجہ: ۱۶۱۶ — اس کی سند امام مسلم کی شرط پر ہے)۔ دوسری طرف انسانی جان کی حفاظت بھی عظیم مقصد ہے: ﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾ (سورۃ المائدہ: ۳۲)، اور فقہی قاعدہ ہے: ”لا ضرر ولا ضرار“، یعنی نہ خود نقصان اٹھایا جائے نہ دوسرے کو پہنچایا جائے (سنن ابن ماجہ: ۲۳۴۱ — صحیح)۔ مسئلے کا فیصلہ انہی اصولوں کے توازن سے ہوگا۔
۲۔ وہ عضو جس پر زندگی موقوف ہو:
جس عضو کے نکالنے سے عطیہ دہندہ کی موت واقع ہو — جیسے دل، یا پورا جگر — اس کا عطیہ زندگی میں دینا بالاتفاق جائز نہیں، کیونکہ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح ایک آنکھ یا ایسا عضو دینا جس سے عطیہ دہندہ خود شدید و مستقل نقصان کا شکار ہو جائے، ضرر کی ممانعت کی بنا پر جائز نہیں (اسلام کیو اے، فتویٰ نمبر ۴۹۷۱۱)۔
۳۔ زندگی میں ایسے عضو کا عطیہ جس کے بغیر زندگی قائم رہے:
خون، جلد اور ایک گردے جیسے اعضاء کے عطیے میں — بشرطیکہ وہ خود بخود پورے ہوتے ہوں یا ان کے بغیر جسم معمول کے مطابق چلتا رہے — جمہور معاصر فقہی مجامع نے شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے: (۱) عطیہ دہندہ بالغ، عاقل اور مکمل رضامند ہو، کوئی جبر یا لالچ نہ ہو؛ (۲) ماہر معالجین کی رائے میں اسے غالب و دائمی ضرر نہ پہنچے؛ (۳) لینے والے کی حقیقی ضرورت ہو اور کامیابی کی غالب امید ہو؛ (۴) عطیہ خالصتاً بلا معاوضہ ہو۔ سعودی عرب کی ہیئتِ کبار العلماء، اسلامی فقہ کونسل (رابطہ عالم اسلامی) اور اردن، کویت، مصر و الجزائر کی فتویٰ کمیٹیوں سے اسی مفہوم کے فتوے صادر ہو چکے ہیں۔ البتہ بعض اہلِ علم نے جسم کے امانت ہونے اور انسان کے اس میں تصرف کے حق کو محدود قرار دے کر اس سے بھی منع کیا ہے؛ یہ اختلاف معتبر ہے، مگر شرائط کی پابندی کے ساتھ جواز کی رائے راجح ہے۔
۴۔ وفات کے بعد عطیہ:
اسلامی فقہ اکیڈمی (منظمة التعاون الاسلامی، جدہ) کی قرارداد نمبر ۲۶ (۱/۴)، چوتھے اجلاس منعقدہ ۶–۱۱ فروری ۱۹۸۸ء کے مطابق: میت سے عضو اس وقت لیا جا سکتا ہے جب لینے والے کی جان یا اس کا کوئی بنیادی وظیفہ (مثلاً بینائی) اس پر موقوف ہو، اور میت نے زندگی میں اس کی رضامندی دی ہو یا اس کے ورثاء اجازت دیں؛ ناقابلِ شناخت اور بے وارث میت کی صورت میں مجاز حاکم کی اجازت شرط ہے۔ لہٰذا جو شخص اس کی وصیت کر جائے اور شرائط پوری ہوں، اس کے عطیے پر عمل جائز ہے؛ البتہ بعض اہلِ علم نے میت کی حرمت کی شدت کی بنا پر بعد از وفات عطیے کو بھی ناجائز رکھا ہے، اس لیے جس کے دل میں اس اختلاف کی بنا پر تردد ہو اسے وصیت نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
۵۔ اعضاء کی خرید و فروخت:
اعضاء کی بیع و شراء اور اس پر کمیشن یا دلالی شرعاً ممنوع و حرام ہے؛ اسی قرارداد میں انسانی عضو کی خرید و فروخت کی صراحتاً ممانعت ہے، کیونکہ یہ انسان کی تکریم کے منافی اور اسے مالِ تجارت بنانے کے مترادف ہے۔ گردے بیچنے کی پیشکش قبول کرنا یا اس کاروبار میں کسی درجے میں شریک ہونا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔
مقاصدی تنبیہ: اس مسئلے میں دو عظیم مقاصد آمنے سامنے ہیں: حفظ النفس اور حفظ الکرامۃ الانسانیہ۔ شرائط کی پابندی ہی وہ میزان ہے جس سے جان بھی بچتی ہے اور انسان کی عزت و حرمت بھی مجروح نہیں ہوتی۔