بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 079
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

میں بیرونِ ملک مقیم ہوں اور لڑکی کے والد (ولی) پاکستان میں ہیں۔ سفر فی الحال ممکن نہیں۔ کیا ویڈیو کال یا فون کے ذریعے ایجاب و قبول کر کے نکاح منعقد ہو جائے گا؟ گواہوں کی شرط کیسے پوری ہوگی؟

الجواب
مختصر جواب

نکاح کا درست ہونا ان شرائط پر موقوف ہے: (۱) ولی کی اجازت و ایجاب، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ (سنن ابی داؤد: ۲۰۸۵؛ جامع ترمذی: ۱۱۰۱؛ سنن ابن ماجہ: ۱۸۸۱ — علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ نکاح کی بنیادی شرائط ہر صورت میں برقرار ہیں:

نکاح کا درست ہونا ان شرائط پر موقوف ہے: (۱) ولی کی اجازت و ایجاب، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ (سنن ابی داؤد: ۲۰۸۵؛ جامع ترمذی: ۱۱۰۱؛ سنن ابن ماجہ: ۱۸۸۱ — علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔ (۲) دو عادل مسلمان گواہوں کی موجودگی، فرمانِ نبوی ہے: ”نکاح نہیں مگر ولی اور دو عادل گواہوں کے ساتھ“ (البیہقی؛ علامہ البانی نے صحیح الجامع: ۷۵۵۷ میں اسے صحیح کہا ہے)۔ (۳) ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول اور فریقین کی باہمی رضامندی و مہر کا تعین۔ یہ شرائط آن لائن عقد میں بھی ویسی ہی لازم ہیں جیسی بالمشافہ عقد میں۔

۲۔ ویڈیو کال مجلس ہی کے حکم میں ہے:

جدید وسائل سے براہِ راست آواز و تصویر کا رابطہ، جب فریقین ایک دوسرے کو سن اور دیکھ رہے ہوں اور گواہ دونوں طرف کی گفتگو سن لیں، تو فقہی اعتبار سے یہ اتحادِ مجلس ہی کی ایک صورت ہے۔ اصل مسئلہ فاصلہ نہیں، بلکہ شناخت کا یقین اور دھوکے کا امکان ہے۔

۳۔ معاصر اہلِ علم کے اقوال:

(۱) شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر معاملہ حقیقی ہو اور اس میں کوئی دھوکا مقصود نہ ہو، اور گواہ فون کے ذریعے ولی کا ایجاب اور دولہے کا قبول سن لیں، تو شرعی نکاح کی شرائط پوری ہو جاتی ہیں اور عقد درست ہے (مجموع فتاویٰ ابن باز؛ اسلام کیو اے، فتویٰ نمبر ۳۴۶۴ و ۱۰۵۵۳۱)۔ (۲) اللجنۃ الدائمہ نے احتیاطاً فون پر نکاح سے منع کیا ہے، کیونکہ آواز کی نقل اور شناخت میں دھوکے کا خدشہ رہتا ہے (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۸/۹۰)۔ (۳) مجمع الفقہ الاسلامی نے جدید وسائلِ ابلاغ سے کیے جانے والے عام عقود کو جائز قرار دیتے ہوئے نکاح کو اس سے مستثنیٰ رکھا، کیونکہ اس میں گواہوں کی موجودگی شرط ہے (قرار نمبر ۵۲ (۶/۲))۔

۴۔ راجح قول اور عملی تدبیر:

راجح یہ ہے کہ اگر فریقین کی شناخت قطعی طور پر یقینی ہو، ولی خود ایجاب کرے، دولہا قبول کرے، اور دو عادل گواہ اسی وقت دونوں کی آواز (ویڈیو کال میں صورت بھی) سن و دیکھ لیں، تو نکاح شرعاً منعقد و درست ہے۔ تاہم احوط و افضل صورت یہ ہے کہ ولی کسی قابلِ اعتماد شخص کو اپنے مقام پر یا دولہے کے شہر میں وکیل مقرر کر دے اور عقد بالمشافہ ہو جائے؛ یا ویڈیو کال پر دونوں اطراف میں گواہ موجود ہوں۔ نیز نکاح کا سرکاری اندراج (یونین کونسل / نادرا) ضرور کرایا جائے، تاکہ حقوق و نسب کا تحفظ دستاویزی طور پر بھی محفوظ رہے۔ جہاں شناخت میں ذرہ برابر شبہ ہو، وہاں اللجنۃ الدائمہ کی احتیاطی رائے کے مطابق ایسا عقد نہ کیا جائے۔

مقاصدی تنبیہ: نکاح کے مقاصد میں اعلان، تحفظِ نسل اور حفاظتِ اعراض سرِفہرست ہیں۔ جدید وسیلہ انہی مقاصد کی خدمت کے لیے ہے؛ شناخت و گواہی کی یقین دہانی دراصل انہی مقاصد کی حفاظت ہے، اس میں کوتاہی مقصد ہی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔