بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 080
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

ہم میاں بیوی کئی سال سے اولاد سے محروم ہیں۔ ڈاکٹر نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی (IVF) تجویز کیا ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور ڈونر انڈے یا نطفے اور کرایے کی کوکھ (سروگیسی) کی صورتوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

اولاد اللہ کی نعمت ہے اور جائز ذرائع سے اس کا علاج کرانا شریعت میں پسندیدہ ہے۔ لیکن نسب کی حفاظت شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے؛ فرمانِ نبوی ہے: ”بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے“ (صحیح بخاری: ۶۷۴۹؛ صحیح مسلم: ۱۴۵۷)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ بنیاد: علاج جائز، نسب کی حفاظت لازم:

اولاد اللہ کی نعمت ہے اور جائز ذرائع سے اس کا علاج کرانا شریعت میں پسندیدہ ہے۔ لیکن نسب کی حفاظت شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے؛ فرمانِ نبوی ہے: ”بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے“ (صحیح بخاری: ۶۷۴۹؛ صحیح مسلم: ۱۴۵۷)۔ اور والدہ کے تعین میں قرآن کا فیصلہ ہے: ﴿إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ﴾ (سورۃ المجادلہ: ۲)، یعنی ان کی مائیں صرف وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا۔ انہی دو اصولوں کی روشنی میں IVF کی تمام صورتیں پرکھی جائیں گی۔

۲۔ جائز صورت اور اس کی شرائط:

وہ صورت جس میں نطفہ شوہر کا ہو، انڈہ اس کی بیوی کا ہو، بارآوری (فرٹیلائزیشن) کے بعد وہی بارآور انڈہ اسی بیوی کے رحم میں رکھا جائے، اور نکاح قائم ہو — یہ صورت حقیقی ضرورت کے وقت شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے اس کی تین شرائط بیان فرمائی ہیں: (۱) بارآوری شوہر ہی کے نطفے سے ہو، کسی اور کا نطفہ استعمال کرنا جائز نہیں؛ (۲) نطفے کا حصول جائز طریقے سے ہو؛ (۳) بارآوری کے بعد انڈہ بیوی ہی کے رحم میں رکھا جائے، کسی اور عورت کے رحم میں رکھنا کسی صورت جائز نہیں (مجموع فتاویٰ الشیخ العثیمین: ۱۷/۲۷–۲۸)۔ اسلامی فقہ کونسل نے بھی ضرورت کے وقت اس طریقے کو ”تمام ضروری احتیاطوں“ کے ساتھ جائز قرار دیا ہے (مجلة المجمع: ۳/۱/۴۲۳)۔ مزید احتیاطیں یہ ہیں: میاں بیوی اور معالج و ادارے پر مکمل اعتماد ہو تاکہ اختلاط کا کوئی امکان نہ رہے؛ عورت کی بے پردگی بقدرِ ضرورت سے آگے نہ ہو اور خواتین عملہ میسر ہو تو اسی سے کام لیا جائے؛ نطفوں کو ذخیرہ کرنے اور غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کیا جائے۔ واضح رہے کہ اللجنۃ الدائمہ کے بعض علماء اور شیخ عبد اللہ بن جبرین رحمہ اللہ نے اختلاطِ انساب کے سدِ باب کے طور پر احتیاطاً اس سے رکنے کی رائے بھی دی ہے، مگر شرائط کی پابندی کے ساتھ جمہور معاصر مجامع و کونسلز کی رائے جواز کی ہے اور یہی راجح ہے۔

۳۔ ناجائز صورتیں:

مندرجہ ذیل تمام صورتیں حرام ہیں: (۱) ڈونر نطفہ — یعنی شوہر کے علاوہ کسی مرد کا نطفہ استعمال کرنا؛ (۲) ڈونر انڈہ — یعنی بیوی کے علاوہ کسی عورت کا انڈہ لینا؛ (۳) کرایے کی کوکھ (سروگیسی) — یعنی بارآور انڈہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں رکھنا، خواہ وہ انڈہ میاں بیوی ہی کا ہو؛ (۴) نکاح ختم ہونے (طلاق یا وفات) کے بعد ذخیرہ شدہ نطفہ/انڈہ استعمال کرنا۔ اسلامی فقہ اکیڈمی (جدہ) کی قرارداد نمبر ۱۶ (۴/۳)، سنہ ۱۹۸۶ء نے مصنوعی تولید کی سات صورتوں کا جائزہ لے کر انہی دو صورتوں کو جائز رکھا جن میں مادہ میاں بیوی کا اور رحم بیوی کا ہو، اور ثالث فریق (ڈونر یا کرایے کی کوکھ) والی تمام صورتیں اختلاطِ انساب اور حدودِ نکاح کی خلاف ورزی کی بنا پر ممنوع قرار دیں۔

۴۔ عملی نصیحت:

ایسا ادارہ منتخب کریں جو شرعی حدود کا پابند اور قابلِ اعتماد ہو، تمام مراحل کی تحریری تصدیق حاصل کریں، اور علاج سے پہلے اور ساتھ ساتھ دعا، استغفار اور صدقے کا اہتمام کریں؛ اولاد دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں۔

مقاصدی تنبیہ: حفظ النسل کا مقصد نسل کی محض بڑھوتری نہیں بلکہ اس کی پاکیزگی و وضاحت ہے۔ علاج جب اسی مقصد کی حدود میں رہے تو رحمت ہے، اور جب نسب کی سرحدیں توڑ دے تو وہی علاج فتنہ بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔