کیا انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ میں شوگر کا مریض ہوں اور روزانہ انسولین لگاتا ہوں — کیا رمضان میں روزے کی حالت میں انسولین لے سکتا ہوں؟ ڈرپ (سیلائن و گلوکوز) اور خون کے ٹیسٹ کا کیا حکم ہے؟ رمضان میں مریضوں کے لیے شرعی رہنمائی کیا ہے؟
روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو غذا یا اس کے قائم مقام ہو کر جسم میں داخل ہو۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ بنیادی اصول اور بین الاقوامی فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:
روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو غذا یا اس کے قائم مقام ہو کر جسم میں داخل ہو۔ مجمع الفقہ الاسلامی (اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ) نے اپنے دسویں اجلاس (جدة، ۲۳–۲۸ صفر ۱۴۱۸ھ / ۱۹۹۷ء) کے قرار نمبر ۹۳ (۱/۱۰) میں واضح فیصلہ دیا ہے کہ جلد کے نیچے، پٹھے میں یا رگ میں لگنے والے انجکشن روزہ نہیں توڑتے، البتہ غذائی مائع اور سیرم (ڈرپ) اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اسی اصول پر تمام تفصیل مرتب ہوتی ہے۔
۲۔ غیر غذائی انجکشن — انسولین، ویکسین، اینٹی بایوٹک:
وہ انجکشن جو غذائی نہیں، علاجی ہیں — انسولین، پینسلین و دیگر اینٹی بایوٹک، درد کش ادویات اور ویکسین — ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ پٹھے میں لگیں یا رگ میں۔ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے کہ پینسلین اور انسولین کے انجکشن روزے کو متاثر نہیں کرتے، نہ پٹھے میں لگائے جائیں نہ رگ میں، البتہ احتیاط یہ ہے کہ انہیں رات کو لگایا جائے (فتاویٰ الشیخ محمد بن ابراہیم: ۴/۱۸۹)۔ لہٰذا شوگر کے مریض روزے کی حالت میں انسولین لگا سکتے ہیں؛ جہاں طبی اعتبار سے ممکن ہو، اوقات سحری و افطار کے گرد رکھنا بہتر اور احتیاط کے قریب ہے۔
۳۔ غذائی ڈرپ، سیلائن اور گلوکوز — ان سے روزہ ٹوٹتا ہے:
جو ڈرپ یا انجکشن جسم کو غذا و توانائی فراہم کرتا ہے — گلوکوز، غذائی سیرم اور وین میں دی جانے والی محلولیں — وہ کھانے پینے کے حکم میں ہے اور اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ غذائی سوئیاں غذا کا حکم رکھتی ہیں، کیونکہ وہ کھانے پینے کے قائم مقام ہیں (مجالس شہر رمضان، ص: ۷۰)، اور نمکین محلول (سیلائن) کی ڈرپ بھی اسی غذائی زمرے میں شامل کی گئی ہے۔ پس غیر ضروری ڈرپ رمضان میں دن کے وقت نہ لگوائی جائے؛ ضرورت ہو تو رات کو لگوائی جائے، ورنہ اس دن کے روزے کی قضا لازم آئے گی۔
۴۔ ڈائیلیسز اور خون کے ٹیسٹ:
گردوں کے ڈائیلیسز سے اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ کے مطابق روزہ ٹوٹ جاتا ہے (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۰/۱۹)، کیونکہ اس عمل میں خون کی صفائی کے ساتھ جسم میں محلول و مواد داخل بھی ہوتے ہیں؛ ایسے مریض رخصت سے فائدہ اٹھائیں جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ خون کے معمولی ٹیسٹ کے لیے لیے جانے والے تھوڑے خون سے روزہ نہیں ٹوٹتا — شیخ ابن باز رحمہ اللہ (مجموع فتاویٰ: ۱۵/۲۷۴) اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ (فتاویٰ ارکان الاسلام، ص: ۴۷۸) دونوں کی یہی تحقیق ہے۔ البتہ عطیے کے بقدر زیادہ خون نکلوایا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا، سینگھی پر قیاس کرتے ہوئے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سینگھی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“ (سنن ابی داؤد: ۲۳۶۷؛ سنن ابن ماجہ: ۱۶۷۹؛ صحیح عند البانی رحمہ اللہ) — واضح رہے کہ سینگھی کے مفطر ہونے میں قدیم جمہور کا اختلاف رہا ہے، مگر عطیے جتنی مقدار احتیاطاً دن میں نہ نکلوائی جائے۔
۵۔ رمضان کے مریضوں کے لیے رہنمائی:
اللہ تعالیٰ نے مریض کو رخصت دی ہے: ﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (سورۃ البقرہ: ۱۸۴)، اور فرمایا: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ (سورۃ البقرہ: ۱۸۵)۔ عارضی مرض میں چھوٹے دنوں کی قضا ہے، اور جو دائمی مرض کی وجہ سے قضا کی بھی استطاعت نہ رکھے وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے (فدیہ)۔ شوگر وغیرہ کے مریض اپنے معالج سے مشورہ کر کے ادویات و انسولین کے اوقات رات کی طرف منتقل کریں، اور جہاں روزہ صحت کے لیے واقعی خطرناک ہو وہاں ہرگز خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں؛ رخصت پر عمل بھی اللہ ہی کی اطاعت ہے۔
مقاصدی تنبیہ: روزے کا مقصد تقویٰ ہے، جان کی ہلاکت نہیں۔ حفظِ نفس شریعت کے بڑے مقاصد میں سے ہے، اسی لیے شریعت نے مریض کو رخصت دے کر عبادت اور صحت دونوں کی حفاظت فرمائی ہے۔