بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 100
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

بھنویں بنوانا یا تراشنا (نمص) کیسا ہے؟ مائیکرو بلیڈنگ اور مستقل و نیم مستقل میک اپ کا کیا حکم ہے؟ مصنوعی پلکیں لگانا کیسا ہے؟ اور کیا شوہر کی خواہش پر بھنویں درست کرنے کی گنجائش ہے؟ حدود و تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔

الجواب
مختصر جواب

نمص بھنوؤں کے بال اکھاڑ کر انہیں باریک یا خاص شکل دینے کو کہتے ہیں۔ یہ حرام ہے، بلکہ کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ اس کے کرنے اور کروانے والی پر لعنت آئی ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ نمص (بھنویں بنوانا) کا حکم:

نمص بھنوؤں کے بال اکھاڑ کر انہیں باریک یا خاص شکل دینے کو کہتے ہیں۔ یہ حرام ہے، بلکہ کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ اس کے کرنے اور کروانے والی پر لعنت آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ نے لعنت فرمائی ہے: ”ٹیٹو بنانے والیوں اور بنوانے والیوں، بھنویں اکھاڑنے والیوں اور اکھڑوانے والیوں، اور حسن کے لیے دانتوں میں فاصلہ کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں“ (صحیح بخاری: ۵۹۳۱؛ صحیح مسلم: ۲۱۲۵)۔ اللجنۃ الدائمہ نے نمص کی یہی تعریف کی ہے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۵/۱۹۵)۔ تھریڈنگ بھی اسی میں داخل ہے، کیونکہ اس سے بال جڑ سے اکھاڑے جاتے ہیں۔ بھنویں مونڈھنا یا کاٹ کر کم کرنا بھی اللجنۃ الدائمہ کے نزدیک جائز نہیں (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۵/۱۹۴، ۵/۱۹۶)۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکھاڑنا تو صریح نمص ہے، اور کاٹنے و تراشنے کو بھی بہت سے علماء نے اسی حکم میں رکھا ہے، اس لیے راجح ممانعت ہی ہے۔

۲۔ جو نمص میں داخل نہیں:

(الف) دونوں بھنوؤں کے درمیان (ناک کے اوپر والے حصے) کے بال صاف کرنا جائز ہے، کیونکہ وہ بال بھنوؤں کا حصہ نہیں ہیں، جیسا کہ اللجنۃ الدائمہ نے فرمایا ہے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۵/۱۹۷)۔ (ب) اگر کسی خاتون کے چہرے پر مونچھ یا داڑھی نما غیر معمولی بال آ جائیں تو انہیں دور کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ عورت کے لیے عیب کی صورت ہے؛ اسی طرح اوپری ہونٹ، بازو اور ٹانگوں کے عام بال صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۵/۱۹۴–۱۹۵)۔ حد یہ ہے کہ بھنوؤں کی اصل ساخت و شکل میں کمی بیشی نہ ہو۔

۳۔ شوہر کی خواہش پر بھنویں درست کرنا:

شوہر کی خواہش یا رضامندی سے بھی نمص جائز نہیں ہو جاتا، کیونکہ لعنت والی حدیث عام ہے اور خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اللجنۃ الدائمہ سے بعینہٖ یہی صورت پوچھی گئی تھی: ایک لڑکی کی بھنویں بہت گھنی تھیں اور وہ شوہر کے لیے انہیں کم کرنا چاہتی تھی؛ تو کمیٹی نے فرمایا: ”بھنویں مونڈھنا یا کم کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ وہی نمص ہے جس کے کرنے اور کروانے والے پر نبی ﷺ نے لعنت فرمائی ہے“ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۵/۱۹۶)۔ شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے کہ شوہر کی رضا سے بھی یہ درست نہیں۔ البتہ یہ منقول ہے کہ بعض حنفی و مالکی علماء نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک اثر کی بنیاد پر شوہر کے لیے گنجائش کی بات کہی ہے؛ مگر راجح موقف صریح حدیث کے عموم کی وجہ سے ممانعت ہی ہے۔ شوہر کے لیے زینت کے اور بہت سے جائز ذرائع موجود ہیں، ان کی طرف توجہ دی جائے۔

۴۔ مائیکرو بلیڈنگ اور نیم مستقل میک اپ:

مائیکرو بلیڈنگ وشم (ٹیٹو) کی جدید صورت ہے: باریک بلیڈ سے جلد میں رنگ اتارا جاتا ہے جو تقریباً اٹھارہ ماہ سے دو سال تک رہتا ہے۔ مدت کا عارضی ہونا حکم نہیں بدلتا؛ یہ بھی وشم اور تغییرِ خلق ہے، اس لیے جائز نہیں — جیسا کہ اسلام کوئسچن اینڈ اینسر کے مفصل فتویٰ (نمبر ۲۹۷۵۸۸) میں آیا ہے۔ اور اگر اس کے لیے بھنوؤں کے بال بھی اکھاڑے جائیں تو نمص کا گناہ بھی جمع ہو جاتا ہے۔ مستثنیٰ صرف عیب کی اصلاح ہے: مثلاً جلنے یا بیماری سے بھنویں ختم ہو گئی ہوں تو انہیں معمول کی صورت پر لانے کی تدبیر جائز ہو سکتی ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں اشارہ ہے کہ یہ لعنت اس وقت ہے جب کوئی عارضہ و عیب نہ ہو (سنن ابی داؤد: ۴۱۷۰)۔ رہا سطحی میک اپ — پنسل یا رنگ جو جلد کی سطح پر لگ کر دھل جائے، نہ بال اکھاڑے نہ جلد میں رنگ اتارے — وہ نہ وشم ہے نہ نمص۔

۵۔ مصنوعی پلکیں:

مصنوعی پلکیں لگانا بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ بال جوڑنے (وصل) کے حکم میں آتی ہیں جس پر لعنت آئی ہے: ایک خاتون نے اپنی بیٹی کے بال جھڑنے پر بال جوڑنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے“ (صحیح مسلم: ۲۱۲۲)۔ اللجنۃ الدائمہ نے صراحتاً فرمایا ہے: ”مصنوعی ناخن، مصنوعی پلکیں اور رنگ دار لینز استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان میں اس مقام کو نقصان بھی ہے اور دھوکہ و تغییرِ خلق بھی“ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۱۷/۱۳۳)۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے شوہر کے لیے مصنوعی پلکیں لگانے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ وصل ہی کی ایک صورت ہے، جائز نہیں؛ البتہ قدرتی پلکوں کو مسکارا سے رنگنا حرام نہیں، کیونکہ وہ جوڑنا نہیں، رنگنا ہے (فتاویٰ نور علی الدرب)۔ ہاں، بیماری یا جلنے سے پلکیں ختم ہو گئی ہوں تو عیب کی اصلاح کی صورت اس سے الگ ہے۔

مقاصدی تنبیہ: شریعت نے زینت کو ممنوع نہیں کیا، اس کی حدود مقرر کی ہیں: زینت اسی لیے ہے کہ انسان اللہ کی عطا کردہ صورت کی قدر کرے، نہ یہ کہ اسے بدل کر دوسری صورت اختیار کرے۔ جن اعمال پر لعنت جیسی سخت وعید آئی ہے ان سے بچنا اور جائز زینت پر اکتفا کرنا ہی ایمان والی عورت کی شان ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔