بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 105
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 7 نومبر 2026 — ہجری: 26 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.. سوال.. حدیث میں ہے کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑنا چاہیے... لمبائی میں اسلامی نقطہ نظر سے کتنے فلور بنانے کی اجازت ہے؟

الجواب
مختصر جواب

اسلامی شریعت میں عمارت کی اونچائی یا منزلوں (Floors) کی کوئی مخصوص حتمی تعداد (مثلاً دو، چار یا دس منزلیں) متعین نہیں کی گئی، بلکہ اصل مدار حقوق العباد، عدمِ ضرر (کسی کو نقصان نہ پہنچنے) اور بلدیاتی و شہری قوانین کی پاسداری پر رکھا گیا ہے۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اسلامی شریعت میں عمارت کی اونچائی یا منزلوں (Floors) کی کوئی مخصوص حتمی تعداد (مثلاً دو، چار یا دس منزلیں) متعین نہیں کی گئی، بلکہ اصل مدار حقوق العباد، عدمِ ضرر (کسی کو نقصان نہ پہنچنے) اور بلدیاتی و شہری قوانین کی پاسداری پر رکھا گیا ہے۔ اس مسئلے کے شرعی اصول اور تفصیلی ضوابط درج ذیل ہیں:

۱. راستے کا حکم (سات ہاتھ والی حدیث کا مفہوم)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (راستے کے تنازع میں) سات ہاتھ کا فیصلہ فرمایا: «قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَشَاجَرُوا فِي الطَّرِيقِ بِسَبْعَةِ أَذْرُعٍ» (جب لوگ راستے (کی چوڑائی) میں جھگڑیں تو (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) سات ہاتھ (راستہ رکھنے) کا فیصلہ فرمایا)۔ (صحیح بخاری: 2473) اور صحیح مسلم کی روایت میں الفاظ یہ ہیں: «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ» (جب تمہارا راستے میں اختلاف ہو جائے تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ مقرر کر دی جائے)۔ (صحیح مسلم: 1613)

۲. عمارت کی اونچائی اور منزلوں کا شرعی ضابطہ

عمودی رخ پر منزلیں بنانے کے حوالے سے شریعت کے تین بنیادی قواعد ہیں:

پہلا قاعدہ: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» (کسی کو نقصان نہ پہنچانا)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» (نہ نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے میں نقصان پہنچانا)۔ (سنن ابن ماجہ: 2340، از عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ؛ مسند احمد؛ امام نووی نے اسے حسن کہا ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے) یہی حدیث فقہ کے کبریٰ قواعد میں سے قاعدہ «الضَّرَرُ يُزَالُ» (ضرر دور کیا جائے گا) کی اصل ہے۔

دوسرا قاعدہ: ریاکاری اور فخر سے اجتناب

احادیثِ مبارکہ میں محض تکبر، نمود و نمائش اور ایک دوسرے پر برتری جتلانے کے لیے بلا ضرورت اونچی سے اونچی عمارتیں کھڑی کرنے کو قیامت کی علامات میں گِنا گیا ہے (جیسا کہ حدیثِ جبریل میں فرمایا: «وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» یعنی تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج بکریوں کے چرواہے عمارتوں کو اونچا کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے)۔ (صحیح مسلم: 8؛ صحیح بخاری: 50 میں بھی یہ مضمون موجود ہے) البتہ ضرورت، رہائش کی تنگی دور کرنے یا آبادی کی گنجائش کے لیے مضبوط اور محفوظ عمارت بنانا اصلاً مباح ہے؛ ناپسندیدگی فخر و مقابلے کی نیت اور اسراف کی ہے، محض اونچائی کی نہیں۔

تیسرا قاعدہ: شہری و بلدیاتی قوانین (By-laws) کی اطاعت

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں نئے آباد ہونے والے شہروں (امصار) کی منصوبہ بندی میں گلیوں اور شاہراہوں کی چوڑائی کے ضوابط مقرر فرمائے تھے — بصرہ کی تخطیط میں بڑی شاہراہ ساٹھ ہاتھ، عام گلیاں بیس ہاتھ اور کوچے سات ہاتھ رکھے گئے (فتوح البلدان وغیرہ میں منقول تاریخی روایات کے مطابق)۔ یہ اسی اصول کی عملی صورت تھی کہ شہری نظم و نسق اور عام مصلحت کے ضوابط ولیِ امر کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں اور ان کی پاسداری لازم آتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ شریعت نے منزلوں کی کوئی خاص گنتی مقرر نہیں کی؛ آپ اپنے پلاٹ پر اتنی منزلیں بنا سکتے ہیں جن کی اجازت مقامی تعمیراتی قوانین دیتے ہوں، بشرطیکہ اس سے پڑوسی کو فاحش ضرر نہ پہنچے اور اس کے پردے و رازداری کا مکمل تحفظ رہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔