بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 041
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 13 جولائی 2026 — ہجری: 27 محرم 1448ھ
سوال

ایک عورت کو اس کے شوہر نے کچھ سال پہلے ایک طلاق دی تھی۔ پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ طلاق کے پیپر بنوائے لیکن بیوی کو دیے نہیں، راضی نامہ ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ اس نے بیوی کو طلاق دی ہے اور اس دفعہ تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہیں۔ عورت کو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں اور کیا شوہر رجوع کر سکتا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

مجموعی حکم: اب تک کل دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں، اور شوہر کو رجوع کا پورا شرعی حق حاصل ہے۔ 1۔ پہلی طلاق: کچھ سال پہلے دی گئی طلاق واقع ہو چکی — تین میں سے ایک حق استعمال ہوا، دو باقی۔

مجموعی حکم: اب تک کل دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں، اور شوہر کو رجوع کا پورا شرعی حق حاصل ہے۔

1۔ پہلی طلاق: کچھ سال پہلے دی گئی طلاق واقع ہو چکی — تین میں سے ایک حق استعمال ہوا، دو باقی۔

2۔ پیپرز والی طلاق: صرف کاغذات تیار کروائے، نہ زبان سے لفظ ادا کیا، نہ کاغذات بیوی کو بھیجے/حوالے کیے اور صلح ہو گئی — یہ "کتابتِ غیر مستبینہ" (غیر نافذ شدہ تحریر) ہے؛ زبان سے طلاق یا تحریری طلاق نامہ بیوی تک پہنچے بغیر محض کاغذی کارروائی سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

3۔ ایک ساتھ تین طلاقیں: ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا سخت گناہ و خلافِ سنت ہے، لیکن صحیح احادیث کی رو سے یہ صرف ایک طلاق شمار ہوتی ہے: (الف) ابن عباس رضی اللہ عنہما: «كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ وَاحِدَةٌ» (صحیح مسلم: 1472)۔ (ب) حدیثِ رکانہ رضی اللہ عنہ: ایک مجلس میں تین طلاقوں پر آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ» (مسند احمد: 2387 — سند صحیح)۔

فیصلہ و رجوع: تعداد = 1 + 0 + 1 = 2 طلاقیں۔ رجوع: (1) عدت کے اندر ہو (تین حیض نہ گزرے ہوں؛ حاملہ ہو تو وضعِ حمل سے پہلے) تو بغیر نئے نکاح و مہر کے زبانی رجوع + دو عادل گواہ کافی ہیں۔ (2) عدت گزر چکی ہو تو عورت و ولی کی رضامندی سے نیا مہر مقرر کر کے باقاعدہ نیا نکاح لازم ہوگا۔

تنبیہ: رجوع کے بعد صرف ایک آخری طلاق کا حق باقی رہے گا — آئندہ ایک طلاق بھی تیسری (مغلظہ) ہوگی، جس کے بعد رجوع/صلح کی گنجائش نہیں رہے گی۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔